سانحہ لبرٹی چوک: سری لنکن کرکٹ ٹیم پردہشت گردوں کے حملے کے دوران شہید ہونے والے جوانوں کی17ویں برسی

٭ پولیس گارڈ کی ہیڈ کانسٹیبل فیصل رشید اورکانسٹیبل ٹیپو فریدکی17 ویں برسی پرشہداء کی قبور پر حاضری

٭ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کی قبروں کو سلامی پیش کی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی

٭ سانحہ میں ٹریفک وارڈن تنویر اقبال، ہیڈ کانسٹیبل فیصل رشید، کانسٹیبلز مدثر ندیم، ظفر اقبال، محمد سلطان اور ٹیپو فرید نے جامِ شہادت نوش کیا

٭ پولیس کے یہ بہادر جوان3مارچ2009ء کو سری لنکن ٹیم پر حملے کو ناکام بناتے ہوئے شہادت کے منصب پر فائز ہوئے

٭ سی سی پی اولاہور بلال صدیق کمیانہ کا شہدائے لبرٹی چوک کو خراجِ تحسین

٭ شہدائے لبرٹی چوک نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جرات و بہادری کی نئی تاریخ رقم کی۔سی سی پی او لاہور

٭ شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے سری لنکن ٹیم کی حفاظت کو یقینی بنایا۔بلال صدیق کمیانہ

٭ پولیس کا ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ سمیت سپورٹس و کلچرل سرگرمیوں کی بحالی میں کلیدی کردار ہے۔سی سی پی او لاہور

٭ لاہور پولیس کے343 پولیس افسران و اہلکاروں نے فرض کی راہ میں اپنی جانیں نچھاور کیں۔بلال صدیق کمیانہ